بھٹکل :12؍اپریل (ایس اؤ نیوز) طویل انتظار کے بعد جیسے ہی بی جے پی نے اپنے اُمیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی، بی جے پی میں بغاوت کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ کرناٹک میں دوبارہ حکومت بنانے کی کوشش کرنے والی بی جے پی کےلئے اب اپنے ہی لوگوں نے مسائل پیدا کردئے ہیں۔ بی جے پی کے لئے مسئلہ یہ تھا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس سے بغاوت کرکے بی جے پی جوائن کرنےوالوں کو بھی خوش کرنا تھا، یہی وجہ ہے کہ اُن کو خوش کرنےکی کوشش میں بی جے پی کے پرانے لیڈران میں ناراضگی کی لہر پیدا ہونا فطری عمل تھا، اب یہی پارٹی میں ہورہا ہے۔
پارٹی نے جیسے ہی اپنے امیدواروں کی پہلی لسٹ جاری کی، کچھ سابق ایم ایل ایز کے نام لسٹ میں نہ ہونے پراُن کےحمایتی احتجاج پر اُترآئے۔ کچھ ایم ایل ایزنے باقاعدہ بغاوت شروع کردی تو بعض کو ای ڈی اور سی بی آئی کی انکوائری کا بھی ڈرستانے کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک طرف یڈی یورپا، ایشورپا اور ایسے بعض لیڈران کو کنارے کرنے کے بعد ان کو خاموش رہنے میں ہی عافیت نظر آرہی ہے تو وہیں سابق وزیر اعلی جگدیش شیٹر، جو 6 بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور ان کا کیرئیر بے داغ رہا ہے، اپنے کو کنارے لگانے پر پارٹی سے سخت اختلاف کیا ہے۔
جن آٹھ موجودہ ایم ایل اے کو ٹکٹ دینے سے انکار کیا گیا ہے ان میں گولی ہٹی شیکھر، ہلاڑی سرینواس شیٹی، سنہِیوا متندور، رگھوپتی بھٹ، انیل بیناکے اور لال جی مینڈن شامل ہیں۔ اسی طرح ٹکٹ سے محروم ہونے والوں میں وزیرایس انگارااور سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ لکشمن سوادی بھی شامل ہیں۔
اُڈپی ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ، جنہوں نے حجاب پر پابندی عائد کرنے کی شروعات کی تھی مگر بعد میں یشپال سورنا نے حجاب پابندی معاملے کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی۔ اب بی جے پی نے یشپال سورنا کو اُڈپی کی ٹکٹ دی ہے اوررگھوپتی بھٹ کا پتّا کاٹ دیا ہے۔ بتاتے چلیں کہ یشپال سورنا کالج کے دنوں میں اے بی وی پی اور بجرنگ دل کا حصہ رہ چکے ہیں جس کے دوران انہوں نے گئو رکھشک کی شبیہ بنالی تھی۔ حجاب پہن کر کالج جانے کی مانگ کرنے والی طالبات کے خلاف سب سے بلند آوازیشپال سورنا کی ہی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ جو قانون نہیں مانے گا وہ ملک مخالف کہلائے گا۔ بی جے پی نے تین مرتبہ کامیاب ہونے والے رگھوپتی بھٹ کا ٹکٹ کاٹ کر اب یشپال سورنا کو موقع دیا ہے۔ اس تعلق سے کہا گیا ہے کہ بی جے پی ساحلی علاقے سے او بی سی اُمیدوار کو میدان میں اتارنے کے موڈ میں تھی، اس لحاظ سے موگویرا کمیونٹی کے یشپال سورنا کو ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ رگھوپتی بھٹ برہمن ہیں۔
سنہِیوا متندور کے تعلق سے بتایا گیا ہے ان پرمقامی لیڈران کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے، اسی طرح ایک خاتون کے ساتھ ان کا ایک وڈیو بھی وائرل ہوا تھا، ان کی جگہ پرپُتور کی اشا تمپا کو میدان میں اُتارا جارہا ہے۔
اڈپی ضلع کے کاوپ سے 3 بار کے ایم ایل اے لالاجی مینڈن کوبھی بی جے پی نے نظرانداز کردیا ہے اور ان کی جگہ پر نئے چہرے کے طور پر گُرمے سریش شیٹی کو میدان میں اتارا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پروین نیٹارو کے قتل کیس کو مینڈن نے ناکافی طریقہ سے ہینڈل کیا تھا۔
ان کے علاوہ رام درگ سے مہادیوپا یادو اور شیراہٹی سے رامنّا لمانی کو بنیادی طور پر عمر کے عنصر کی وجہ سے ٹکٹ دینے سے انکار کیا گیا ہے۔
ہوسادرگہ کے ایم ایل اے گولی ہٹی شیکھرکوبھی ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہےاور ان کی جگہ پر ایس لنگامورتی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اسی طرح بیلگاوی نارتھ اسمبلی حلقہ کے موجودہ ایم ایل اے انیل بیناکے کی جگہ پر بی جے پی نے ڈاکٹر روی پاٹل کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
جگدیش شٹرناراض: سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شٹر کو انتخابی سیاست سے پیچھے ہٹنے کا فرمان جاری کرنے پرسخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جگدیش شٹر نے ہرحال میں انتخابات لڑنے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔
اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے جگدیش شٹر نے ہائی کمان سے حکم موصول ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نئے چہروں کو موقع فراہم کرنے کےلئے پیچھے ہٹنے کو کہاگیا ہے لیکن اس سے قبل مجھے ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اب جبکہ سرپر انتخابات ہیں مجھے پیچھے ہٹنے کے لئے کہاگیا ہے۔ انہوں نے کہا اگرپیچھے ہٹانا تھا تو دو تین مہینے پہلے ہی بتا دینا چاہئے تھا جگدیش شٹر نے کہا کہ میں پچھلے 30 برسوں سے پارٹی کو مضبوط ومستحکم کرنے میں متحرک رہا ہوں میرے ساتھ جو رویہ برتاگیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ پارٹی میں سنئیر لوگوں کا احترام ہونا چاہئے۔
آگے کہا کہ میری سیاسی زندگی میں کسی بھی طرح کا رشوت خوری کا الزام نہیں لگا۔ میں نے وفادار بن کر پارٹی کے لئے کام کیا۔ میرے حلقہ کے لوگ مجھے ضرور آشیرواد کریں گے ۔ میں اس مرتبہ انتخابات میں بطور امیدوار لڑونگا۔ میرے اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور میں میرے فیصلے پر اٹل رہوں گا۔
رگھوپتی بھٹ کی انکھوں سے آنسو جاری، مگر کہا کہ غمزدہ نہیں ہوں: اُڈپی کے تین بار کے بی جے پی ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ، جنہیں کرناٹک کے اُڈپی اسمبلی حلقہ سے 10 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ دینے سے محروم کیا گیا ہے، بی جے پی کی طرف سے اُن کے ساتھ کیے گئے سلوک سے پریشان ہیں۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی نے انہیں چھ ماہ پہلے واضح طور پر بتا دیا ہوتا کہ 'ذات کے تحفظات کی وجہ سے انہیں دوبارہ میدان میں نہیں اتارا جا سکتا، تو وہ سینئر لیڈر کے ایس ایشورپا کے منتخب کردہ راستے پر چلتے'۔ جنہوں نے انتخابی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ "میری پارٹی کے تمام رہنماؤں نے مجھے آخری لمحات تک بتایا تھا کہ کم از کم دو برہمنوں کو میدان میں اتارا جائے گا۔ میں نے سیٹ کے لیے لابنگ نہیں کی۔ میں نے ایمانداری سے اُڈپی ضلع میں پارٹی کی تعمیر کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ابھی اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سخت افسردہ لہجے میں بھٹ نے کہا کہ ’’اب پارٹی کے لیے میری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ پارٹی کافی ترقی کر چکی ہے،‘‘ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کی ترقی میں اس وقت حصہ ڈالا تھا جب بوتھ سطح پر کوئی کارکن نہیں تھے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کے دوران ان کی انکھوں سے آنسو نکل رہے تھے، مگر بھٹ نے کہا کہ "میں پارٹی کے فیصلے پرغمزدہ نہیں ہوں۔ البتہ جس طرح سے پارٹی نے ٹکٹ سےمحروم کیا ہے اس سے مجھے تکلیف ہوئی ہے،‘‘
وزیر ایس انگارا نہیں کریں گے بی جے پی کے لئے مہم: کرناٹک کے وزیر برائے فشریز، پورٹس اور ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ ایس انگارا کو ٹکٹ سے محروم کرنے پر انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے وہ پارٹی کے لیے مہم نہیں چلائیں گے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ تمام سیاسی سرگرمیوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
کرناٹک کے جنوبی کنڑا ضلع کے سُولیا سے پانچ بار کے بی جے پی ایم ایل اے کو بی جے پی نے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا، جو کہ درج فہرست ذات کے امیدوار کے لیے مخصوص ہے۔ لسٹ جاری ہونے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انگارا نے کہا کہ بی جے پی کو بتانا چاہئے کہ انہوں نے پارٹی کے ساتھ کیا ناانصافی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر وہ پریشان ہیں۔ آگے کہا کہ ٹکٹ دینے سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ وزیر نے کہا کہ جب پارٹی کو ان پر اعتماد ہی نہیں ہے تو انہیں سیاست میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لکشمن ساودی کا ردعمل: کرناٹک کے سابق نائب وزیراعلی لکشمن ساودی نے بدھ کو اتھنی حلقہ سے ٹکٹ نہ ملنے کے بعد قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے رکن اور بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بھیک کا پیالہ لے کرنہیں گھوموں گا۔ میں ایک خوددار سیاستداں ہوں۔ میں کسی کے زیر اثر کام نہیں کرتا۔
موجودہ ایم ایل اے مہیش کُمتھلی کوبیلگاوی ضلع کے اتھنی حلقہ کا ٹکٹ دیا گیا ہے جہاں سےلکشمن ساودی 2018 کے انتخابات میں کُمتھلی سے ہار گئے تھے۔ کُمتھلی جو کانگریس میں تھے، 2019 میں کانگریس۔جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو گرانے اور بی ایس یڈی یورپا کو مدد کرنے والے کانگریس کے باغی گروپ کا حصہ تھے۔ جبکہ بی جے پی کے لکشمن ساودی اتھنی سے تین مرتبہ ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔
بدھ کو ساودی نے کہا کہ وہ جمعرات کی شام کو ایک سخت فیصلہ لیں گے اور جمعہ سے کام شروع کریں گے۔ قیاس لگایا جارہا ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ جن لوگوں کو بی جے پی نے ٹکٹ نہیں دیا ہے، وہ اگے چل کر کیا کرتے ہیں، حالانکہ بی جے پی کی طرف سے لسٹ جاری ہونے سے پہلے کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈران نے بتادیا تھا کہ بی جے پی کے کئی لیڈران ان کے رابطے میں ہیں۔